Skip to main content

گول روٹی پدرسرانہ جکڑ اور میری باجی : ( آزادی سپیشل )


 


جی یہ ایک بالکل حقیقی داستان ہے۔ اُس روٹی کی جس کو عشق میں سخت چوٹ لگی جب اُس کو بنانے والے پیارے پیارے ہاتھاحتجاجی مارچوں میں اُس کو بدنام کرنے میں مصروف ہوگئے۔ 


روٹی کا بیان : 


میرا کیا قصور۔ باجی نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ اُن کے سارے مکے جو وہ آفس سے مجھے آکر مارتی تھیں ، اُن کا میں نے کبھیبرا نہیں منایا۔ میرا ہر سڑا سرا جو اُن کے ابا شوق سے کھاتے تھے ۔ میرا ہر کچا کنڈا جو اُن کی اماں خاموشی سے کھا لیتی تھیں۔ کسیبھی بات کا لحاظ نا کیا باجی نے۔ سچی بڑی گہری چوٹ کھائی میں نے محبت میں۔ 


اس سے بہتر تو وہ تندور والا ہے جس نے  مجھے اُڑاتے اُچھالتے میرے سارے کس بل نکال دیے ۔ اُس نے مجھے ایسے سارےزمانے میں تو بدنام نا کیا نا۔ 


آج میرا بھی آپ سے سوال ہے باجی


آپ جب مجھے بیلنے سے گول کرتی تھیں۔ اس تمام وقت آپ مجھے اِس موئے پدرسرانہ نظام کی خاطر گول کرتیں تھیں؟ اور میںسمجھی کہ آپ کو مجھے خوبصورت بنانے کا شوق ہے۔ 


آپ ایسے بھی سوچ سکتیں ہیں یہ تو میں نے کبھی سوچا ہی نا تھا۔ آخر کو میری خوبصورتی اور پھولی پھولی نرمی آپ کو بھی تو بھاتیتھی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے باجی کہ وہ سب مجبوری تھی۔ 


اتنا کرب نا دیں مجھے۔ اگر ایسا ہی تنگ کیا ہے اس موئے نظام نے آپ کو تو آپ میرے اندر زہر گوند دیتیں۔ مگر میری توہین ناکرتیں۔ آپ کی توہین کی وجہ سے اب تندور والوں کی جو کمائی ہوئی ہے۔ جگہ جگہ پیکٹ میں فروخت ہونے والی روٹیاں میرا منہچڑھاتی ہیں۔ 


اب خوبصورت مینکیورڈ ہاتھ آٹا صرف چمڑی پر ملنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بھوکے بچے روٹی کی بجائے پیزا مانگتے ہیں۔ 


آپ کے ہاتھ روٹی بناتے تھے تو ان پدرسرانہ ملٹی نیشنلز کا کاروبار ٹھپ تھا۔ اب ان کی خوب بِکری ہورہی ہے ۔ 


میں کسی کی جاگیر تو نہیں۔ آپ پھر بنائیں نا مجھے گول گول۔ پھر دیکھیں کیسے سارا نظام آپ کے پاؤں کے نیچے واپس آتا ہے۔ 


😉


ہنسی نا آئے تو مسکرا لیں۔ پدرسرانہ نظام مسکراہٹ پر تالے نہیں لگا سکتا۔ مسکراہٹ اور گول روٹی دونوں صحت کے لئے مفیدہیں۔ 



صائمہ شیر فضل 







Comments

Popular posts from this blog

باجی کا دوپٹہ

میری   باجی   اور   میں   بالکل   ایسے   ہیں   جیسے   یک   جان   دو   قالب۔   یہ   کہنا   بھی   غلط   نا   ہوگا   کہ   باجی   کی   خاطر   میں   نے   کافی   جسمانی   صعوبتیں   بھی برداشت   کیں۔   چھوٹے   ہوتے   ہوئے   باجی   مجھی   کو   آنکھ   مچولی   میں   کس   کر   بھائی   یا   سہیلی   کی   آنکھ   پر   باندھ   دیتییں   تھیں۔   مجھی   کو   پھیلا   کر   سارے   شہتوت   چگتییں۔   کالج   جاتے   جاتے   باجی   نے   میرے   استعمال   میں   جو   بدعات   ایجاد   کیں   ۔   اُن   کا   حساب   تو   اللہ   ہی   اُن   سے   لے   گا۔   رکشے   کی   ہر   سواری میں   باجی   مجھے   بل  ...

On Cue:

On Cue:  Reality and illusion .............................................. When the Pharoah challenged Prophet Moses (AS) to a contest of power with his best magicians Allah actually revealed to humanity the reality of deception and the fallibility of human vision and perception.  He assured Moses (AS): (20:68) We said to him: "Have no fear; for it is you who will prevail. (20:69) And throw down what is in your right hand; it will swallow up all that they have wrought. They have wrought only a magician's stratagem.  A magician cannot come to any good, come whence he may. ” In the dicipline of psychology there is a phenemenon labelled as the “phi   phenomenon” or simply put a visual closure. It explains the natural response of human vision to a visual stimuli. The response lasts longer than the stimulus thus extending the actual experience. The co ordinated movment of lights on a dance floor or the continuous flicker of bulbs in a string of decoration lights of...

آسان لفظوں میں:

ایک دن بچوں کو اسکول چھوڑتے وقت جب بیٹی نے خرچے کے پیسے مانگے  تو بٹوے میں ُکھلے نوٹ ختم تھے۔ میں نے جلدی میں  بیٹی کو سو کا نوٹ تھما دیا  کہ باقی واپس کردے گی۔  بیٹی نے اگلے دن پھر پیسے مانگے تو میں نے پچھلوں کا حساب مانگا۔ کہنے لگی وہ تو پتا نہیں کہاں گئے۔ میں نے پوچھا یہ کیا جواب ہوا۔ اگر آپ کو یہ ہی نہیں پتا کہ پچھلوں کا کیا ہوا تو آگے اور پیسے کیا سوچ کردوں۔ پھر اُس کو سمجھ آئی اور اُس نے پوری بات بتائی کہ میں نے پیسے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے اور شائد وہ بے دھیانی میں میرے سے کہیں گر گئے۔ اب خیال سے اندر رکھ لوں گی ۔  اس ذمہداری کو سمجھنے پر میں نے اُس کو مزید خرچے کے پیسے تھما دیے۔  آج صبح صبح جب اخبار اُٹھایا تو معلوم ہوا کہ اب پاکستان جغرافی سیاست کی بجائے جغرافی معیشت پر دھیان دے گا۔ اور اس میں ہماری مدد ہمارا فولادی بھائی چین کرے گا۔ اُخوت اور بھائی چارے کا اظہار اپنی جگہ۔ تھوڑے بہت معاشی داؤ پیچ ہر وہ فرد اپنی جغرافیائی حدود میں استعمال کر ہی لیتا ہے جس کے پاس کوئی اختیار ہو۔ رشتہ اور اختیار جغرافیہ بھی بدل دیتا ہے۔ یہ انسانی نفسیات ہیں۔ انصار...