Skip to main content

آسان لفظوں میں

 




 بچپن میں ایک عینک ملا کرتی تھی۔ ساتھ میں کچھ کارڈز ملتے تھے۔ عینک میں دو رنگ ہوتے تھے۔ لال اور نیلا۔ جب عینک لگا کرکارڈز پر نظر ڈالتے تھے تو جیسے سب کچھ زندہ اور جاندار نظر آنے لگتا تھا۔ 


ہر عینک ایسے ہی انسان کی دنیا کو جاندار بناتی ہے۔ 


دھوپ میں کالے شیشے آنکھوں کو محفوظ رکھتے ہیں پر جب دھوپ نہیں ہوتی تو وہی شیشے ہر شے کو اندھیرے میں ڈبو دیتے ہیں۔ 


دیکھنے والے کیا دیکھنا چاہتے ہیں اس اختیار کا استعمال وہ اپنی عینک سے کرتے ہیں۔ تاریخ ایسی ہی دور اندیش اور حساس عینکوںسے دیکھی گئی اور دیکھنے والوں نے جب اپنی نظر کو الفاظ میں قید کیا تو گویا حقیقت کے ایک پہلو کو قید کیا۔ 


جب مارکسسٹ سارے مسائل کی جڑ  انسانوں کے غیر مساوی نظام تقسیم کو گردانتے ہیں تو وہ بھی محض ایک پہلو کی بات کرتےہیں۔ 


جب  سرمایہ دار منافع کی بڑھوتی کی خاطر عوام کو حصہ دار بنانے کی بات کرتے ہیں تو وہ بھی ایک پہلو کی بات کرتے ہیں۔ 


جب فیمنسٹ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو وہ بھی ایک ہی پہلو پر مرکوز ہوتے ہیں۔ 


حقیقت ہمیشہ ایک پہلو سے زیادہ ہی ہوتی ہے۔ جس پہلو پر مرکوز ہوجائیں وہی زندہ رہتا ہے۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہمیںپتا ہو کہ کب کب ان جزوی نظریات سے کام لینا ہے اور کب ان سب کے باہم ٹکراؤ کو عدل کے عدسے سے محدود کرنا ہے۔ 


صائمہ شیر فضل 

Comments

Popular posts from this blog

باجی کا دوپٹہ

میری   باجی   اور   میں   بالکل   ایسے   ہیں   جیسے   یک   جان   دو   قالب۔   یہ   کہنا   بھی   غلط   نا   ہوگا   کہ   باجی   کی   خاطر   میں   نے   کافی   جسمانی   صعوبتیں   بھی برداشت   کیں۔   چھوٹے   ہوتے   ہوئے   باجی   مجھی   کو   آنکھ   مچولی   میں   کس   کر   بھائی   یا   سہیلی   کی   آنکھ   پر   باندھ   دیتییں   تھیں۔   مجھی   کو   پھیلا   کر   سارے   شہتوت   چگتییں۔   کالج   جاتے   جاتے   باجی   نے   میرے   استعمال   میں   جو   بدعات   ایجاد   کیں   ۔   اُن   کا   حساب   تو   اللہ   ہی   اُن   سے   لے   گا۔   رکشے   کی   ہر   سواری میں   باجی   مجھے   بل  ...

ہلکا پھلکا:

اقبال کے زمانے میں مشینوں کی حکومت کا یہ عالم نا تھا جو ہمارے زمانے میں ہے۔ مرحوم نے نا جانے کیا کچھ جانچ لیا تھا اُس وقت جو ہمیں ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔ اب تو مشینوں کی حکومت کا یہ عالم ہے کہ کل ہی ہمارے آئی فون نے اطلاع دی کہ "آپ کو پتا ہے کہ اگر آپ سڑیس میں ہیں تو قرآن مجید آپ کے سٹریس کو کم کرتا ہے"۔ ہم نے بھی اشرف المخلوق ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے آئی فون کو جوابی اطلاع دی "جی مجھے علم ہے اس فائدے کا اور میں رابطے میں ہوں اپنے رب سے"۔  اس تمام اطلاعاتی مراسلت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں اپنے فون سے شدید انس اور لگاوؐ محسوس ہوا۔ کسی زمانے میں انسان انسان کا خیر خواہ ہوتا تھا۔ جب سے  انسان نے حکومت اور کاروبار کی خاطر انسانوں کی خریدوفروخت شروع کی تب سے خیر خواہی کے لیے کچھ مشینوں کو آٹو میٹک پر کردیا گیا۔ خریدوفروخت کرنے والوں کو خاص قسم کے انسان چاہیے تھے اور انسانوں کو سہارا۔ یہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا نہیں ہے۔ یہاں پر تو مشین ڈوبتے کو سیدھا ٓاسمان پر ایک ہی چھلانگ میں لے جاتی ہے اور اس تمام سفر میں جو ایک نقطے سے دوسرے تک ڈسپلیسمنٹ ہوتی ہے اُس میں انسان کی ...

The cat woman and bat man Bhai; An introductory lesson in sociology 101

CAT WOMAN: The convenient feminist BAT MAN BHAI : Saviour of the convenient feminist planted by the patriarchy The cat woman:  "there is no milk in the fridge" Bat man bhai: "I bought three bottles of milk yesterday" The cat woman: "I can't see them" Bat man bhai: "try moving your eyeballs" The cat woman: "did you just insult me" Batman bhai: "I just tried helping you" The cat woman: "I never asked for help" The bat man bhai: "you said you couldn't see" The cat woman: "that was a statement not a cry for help" The bat man bhai: "statements end with a full stop or and exclamation mark not a question mark" The cat woman: "you can hear punctuation" The bat man bhai: "Is that a question?" The cat woman: "no" The bat man bhai: "I thought so" A loud blast and a crash is heard. The bat man bhai:  " I helped the neighbours daughter get out but ...